16 اپریل 2015 - 06:46
کشمیر میں فوج کے ہاتھوں ایک جوان کی ہلاکت کے بعد شدید غم و غصہ کی لہر

کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک جواں سال طالب علم کی ہلاکت کے بعد پوری وادی میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک جواں سال طالب علم کی ہلاکت کے بعد پوری وادی میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

کشمیر سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال میں فوج کے ہاتھوں خالد مظفر نامی جواں سال طالب علم کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال اور شدید غم وغصہ کی لہر کے بیچ پر تشدد احتجاجی مظا ہرے کئے گئے جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں کے قریب مظاہرین زخمی ہو ئے ہیں۔ جھڑپ کے دوران ہی مارے گئے نوجوان کواسلام و آزادی کے حق میں نعروں کے بیچ سپرد خاک کیا گیا جس دوران سینکڑوں لوگوں نے اسکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اگر چہ پولیس اور فوج اس بات کا دعویٰ کر رہی ہے کہ نوجوان ایک دھشتگرد تھا تاہم  خالد کے اہل خانہ، مزاحمتی خیمہ اور علاقے کے عام لوگوں نے پولیس کے اس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید خالد مظفر ایک طالب تھا اور میدان جہاد کے سرگرم اور معروف جانباز برہان کے بھائی ہونے کی پاداش میں پولیس اور فورسز نے اسے اپنے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے جانبحق کیا۔ جنوبی کشمیر میں اس ہلاکت کے خلاف کل شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملے جس کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں لوگ فوج کے خلاف زوردار نعر ے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ایک سرگرم جنگجو برہان کے معصوم بھائی کو گولیاں مارکر ہلاک کیا لہذا اس واقعہ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو واقعی سزا ملنی چاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲